کاروار:20؍ ستمبر(ایس اؤ نیوز)قریب 250سے 300کلوگرام وزنی ٹیونا نسل کی مچھلی کا شکار کرنے والی بوٹ پر 72لاکھ روپئے کی سبسڈی دیتےہوئے 100ڈیپ سی لانگ لائنر بوٹ کومرکزی حکومت نے منظوری دی تھی ۔متعلقہ سہولت کے ذریعے شکارکردہ ٹیونامچھلی کو بیرونی ممالک رفت کرتےہوئے بہترین کمائی کئے جانے کا خیال پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اترکنڑا ضلع کے ماہی گیر متعلقہ اسکیم سے استفادہ کے لئے آگے نہیں آرہے ہیں۔ اس کے بجائےاترکنڑا، منگلورو اور اُڈپی اضلاع کے ماہی گیر بوٹ کا نقشہ بدلنے اور متعینہ رقم کی سبسڈی دینے کامطالبہ پیش کررہے ہیں۔ ماہی گیروں کے مطالبے کو دیکھتےہوئےضلع کے عوامی نمائندے اور ضلع نگراں کار وزیر بنگلورو میں جاری ودھان سبھا اور ودھان پریشد اجلا س میں ماہی گیروں کی پیش کش کو رکھنےکی تیاری میں رہنےکی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
امکانات کم ہیں :ڈیپ سی لانگ لائن بوٹ کے ذریعے 200ناٹیکل میل دور گہرے سمندر میں ٹیونا نسل کی مچھلی شکار کرنے والے اس انوکھے ماہی گیر منصوبے کا مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے۔ تمل ناڈو کے ماہی گیر اس منصوبے سےاستفادہ کرتےہوئے کافی آگے نکل گئے ہیں۔ ریاست کرناٹک میں خو د وزیر اعلیٰ نے 1.20کروڑروپئے قیمت والی 100ڈیپ سی بوٹوں کو منظوری دی ہے۔ حالیہ اپنے منگلورو دورے کے دوران وزیرا عظم نے اس منصوبے کا اعلان کیاتھا۔ متعلقہ منصوبے کے تحت بوٹ خریدنے کےلئے حکومت 72لاکھ روپئے کی سبسڈی دینے کے باوجود ضلع کے ماہی گیر اس طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ ماہی گیروں کے رویہ سے عوامی نمائندوں اور ضلع نگراں کار وزیر کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر عوامی نمائندے اور ضلع نگراں کار وزیر ماہی گیروں کے مطالبےکےمطابق بوٹ کے نقشہ میں تبدیلی کےلئے رواں اجلاس میں ہی پیش کرنےکی تیاری میں ہیں۔
کرناٹک میں ابھی تک 200ناٹیکل میل دور سمندر میں جاکر ٹیونامچھلی کا شکار کرنے والےکوئی نہیں ہیں۔ متعلقہ منصوبہ ماہی گیر نظام میں نیا میدان ہے۔ اس منصوبے کو سمندری وسائل کے بہتر استعمال کے لئے تشکیل دیاگیا ہے اس کے چلتے بوٹ کے نقشہ میں کسی تبدیلی کو منظوری دینےممکنات میں سےنہیں ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ اگر بوٹ کے نقشہ میں تبدیلی کی جاتی ہے تو 200 ناٹیکل میل دور جاکر ٹیونامچھلی کا شکار ناممکن ہوجائے گا اسی لئے حکومت ممکن ہے کہ اس سے انکار کرے۔
24ناٹیکل میل دور تک جاکر ٹرال، پرشین بوٹ کے ذریعے ماہی گیری کی جاتی ہے۔ ٹرال اور پرشین بوٹوں میں اضافہ ہونے کے نتیجے میں متعلقہ حدود میں مچھلی کے وسائل میں کمی دیکھی جارہی ہے اسی لئے حکومت نئے ٹرال اور پرشین بوٹوں کومنظوری نہیں دے رہی ہے۔
ڈیپ سی لانگ لائنر بوٹ:200ناٹیکل میل دور گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنےوالی ڈیپ سی لانگ لائنر بوٹ 24میٹر لمبی، 6 میٹر چوڑی ہوتی ہے جس کی تعمیر اسٹیل سے کی گئی ہے۔ منگلورو میں ایسی 6بوٹوں کے لئے پیش کش کی گئی ہےتو اُڈپی سے 4عرضیاں موصول ہوئی ہیں۔ اترکنڑا ضلع سے صرف 2عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ ان بوٹوں کی تیاری کے لئے رتناگری میں 1۔منگلورو میں 5۔ اُڈپی میں 2۔ملپے میں 1بوٹ بلڈنگ یارڈ بھی منظور کئےگئےہیں۔ یہاں پر جو بوٹ تیارکئےجاتےہیں صرف انہی پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ جنرل کٹگیری کو 40فی صد، ایس سی ، ایس ٹی خواتین کو 60فی صد سبسڈی دی جائے گی۔
ٹیونا مچھلی :ٹیونا نسل کی مچھلی قریب 250سے 300کلو گرام وزنی ہوتی ہے۔ ٹیونا مچھلی کاسمندر میں شکار کرنےکے بعد وہیں اس کوپاک صاف اور کٹ کرکے فریج میں رکھاجائےگااور پھر ساحل پر لاکر بیرونی ممالک کوبھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں ٹیونا مچھلی کی اچھی خاصی قیمت ہے۔ جب کہ 200ناٹیکل میل دور گہرے سمندر میں ٹیونا مچھلی زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے جس کا استعمال نہیں ہورہاہے۔